Monday, October 31, 2016

طلاق ثلاثہ کےتنازعہ کا جواب حقیقت کی روشنی میں

گزشتہ  6ماہ سے ملک بھر میں اسلامی معاشرتی نظام کے   قوانین پر  پابندی عائد کرنا بحث کا   موضوع بنا ہوا ہے اور اس پر  تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے- خواتین کے چند گروپوں نے مثلا   "بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن" وغیرہ نے  سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے کہ    تین طلاق کے ذریعہ فوری طلاق  پر   پابندی عائد کی جائے کیونکہ یہ   غیرآئینی، امتیازی اور اسلامی قانون کے خلاف ہے- ان  کا کہنا ہے کہ ایسے موقعہ پر  عورتوں کو  اپنے دفاع  کی یا طلاق پر اعتراض کرنے کی اجازت نہیں  ہوتی ہےجس کی وجہ سے   اچانک انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور ایسے معاملے میں  نہ ان کا خاندان ان عورتوں کا ساتھ دیتا ہے اور نہ ہی سماج ان کےحق کے لئے کھڑا ہوتا ہے- ان کا یہ بھی االزام ہے کہ تین طلاق سے   طلاق کے قرآنی احکام کی خلاف ورزی ہوتی ہے، اس کی کوئی مذہبی حیثیت نہیں- لہذا اس پر  قانونی طور پر پابندی لگا دینی چاہیے۔
اس نئے مقدمے کے بعد ہندوستان کی سپریم کورٹ نے  اسلام کے معاشرتی قوانین کوجانچنے  کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہندوستانی  آئین کی شرائط پر کھڑے ہیں یا نہیں- اور اس بات کا بھی  اندازہ  لگائے گی کہ اسلامی قوانین مذہبی آزادی کے نظریے کے موافق ہیں یا نہیں اور   وہ جنسی مساوات کو یقینی بناتے ہیں یا نہیں۔
ہندوستانی عدالتیں اور  حکومت ایک طویل عرصے  سے اس نظریے کی حامل ہیں کہ گزشتہ 65 سالوں میں  اصلاحات کے فقدان نے   مسلمان عورتوں  کو   سماجی اور مالی دونوں  اعتبار       سے  انتہائی کمزور بنا دیا ہےحال  ہی میں  سپریم کورٹ میں داخل ایک حلف نامے میں  حکومت نے کہا ہے کہ ایک سے زیادہ شادی اور تین طلاق کو  مذہب کے  لازمی جز  کے طور پر شمار نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح دوسری شادی اور تین طلاق  کے معاملے پر  وزارت قانون  نے کہا کہ "ان معاملات پر جنسی مساوات، غیر جانبدارانہ سلوک، برابری کے حقوق، عزت و وقار اور خاص کر خواتین کی ترقی جیسے اصولوں کی  روشنی میں عدالت عالیہ کے ذریعے نظر ثانی کی ضرورت ہے
ملک بھر میں مسلم تنظیموں نے مسلم پرسنل لاء میں حکومت کی مداخلت اور تین طلاق اور دوسرے اسلامی قوانین پر پابندی کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہے۔
بہت سے مسلمان اپنی  دفاعی دلیل کے طور پر ان حقوق کا حوالہ دیتے ہیں جو   آئین کی طرف سے انہیں حاصل ہیں- بعض مسلم علماء  مذہب کی آزادی  اورجنسی مساوات کے تصورات  کے تعلق سےحوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہآئین کی رؤ سےاپنے دین کی پابندی کرنا ہمارا آئینی حق ہے۔ایک معروف اسلامی اسکالرنے دلیل دی کہ " ہم اس بات سے سخت ناراض ہیں کہ جس طرح مرکزی حکومت نے اس پورے معاملے میں اپنی دلیل کی بنیاد  رکھی ہے تاکہ اس معاملے کو اسلام اور ہندوستانی آئین کے درمیان  تصادم  بنا دیا جائے ، جس میں اسلام کو مساوات اور جنسی برابری کے اصولوں کے خلاف کھڑا کر دیا گیا ہے- یہ غلط ہے۔۔۔۔۔اوراسلام خواتین مخالف نہیں ہے-اسلام  عورت کو خلع کی اجازت دیتا ہے (جہاںعورت طلاق حاصل کرنے کے لئے  آزاد ہے)”-
اس  مسئلے کے حل تک پہنچنے کا اسلامی طریقہ
1۔ سب سے پہلے  ہمارے ذہنوں میں یہ  واضح رہنا چاہئے کہ اسلام دوسرے مذاہب سےبالکل  الگ  ایک مکمل ضابطہ حیات ہے دیگر مذاہب کے برعکس یہ  زندگی گزارنے کا طریقہ ہے- یہ ہندو اور بدھ مذہب، عیسائیت یا کسی  اور دوسرے مذہب کی طرح نہیں ہے جن میں  صرف شادی، وراثت اور عبادت کی چند رسمیں ہیں۔
2۔ دوسرے   یہ کہ مسلمانوں کے لیے 'الحاکم 'کون ہے یہ اسلامی عقیدہ کا ایک بنیادی پہلو ہے یعنی الحاکم کے معنی ہیں قانون ساز، وہ ذات جو خود مختار ہے، جسے  قانون بنانے کا اختیار ہے اور جو یہ فیصلہ کرے کہ انسانوں کے لئے حلال (جائز) کیا ہے اورحرام (ممنوع) کیا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ یہ فکر کہ  'انسان خود قانون ساز ہے' مغرب کے لادینی  نظریے  کی پیداوار ہے جس میں خدا کو  چرچ  تک محدود کرکے انسانوں کو  قانون سازی کا  اختیار دے دیا جاتا ہے۔
تاہم، ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنے کی  ضرورت ہے کہ   کیا انسان  صرف اپنی عقل کا   استعمال  کر کے  اپنے لئے  صحیح  اور غلط کا   تعین کرنے   کی صلاحیت  رکھتا ہے؟؟ کیا وہ یہ طئے کر سکتا ہے کہ کونسا عمل قابل تعریف ہے اور کس عمل کو ترک کرنا چاہیے؟؟ یا پھر ہمیں خالق کائنات اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف سے رہنمائی کی ضرورت ہے؟   اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان حقیقت کے ویسے ادراک کی صلاحیت رکھتا ہے جیسی کہ وہ ہے اور چندحقائق کو طئے کرسکتا ہےجن کو  وہ  محسوس کرتا   ہے۔ مگر انسانی ضرورتیں خواہ   انفرادی ہوں یا سماجی ہوں، اقتصادی ہوں یا سیاسی ہوں، ان کے حل کے لئے نظام اور ضابطے بنانے کی قدرت انسانی ذہن نہیں رکھتا- اور اگر ایسی کوئی کوشش ہو تو وہ تفاوت، تفریق، اختلاف اور ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں ہو سکتی- لہذا ایسی ہر کوشش کا مقدر ناکامی ہی  ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالی ،جو مردوں اور عورتوں کا خالق ہے، فرماتا ہے: " کیا عجب  ہےکہ ایک شئے تمہیں ناگوار ہو اور وہ تمہارے لئےبہتر ہو، اور ایک شئے تمہیں پسند ہو اور وہ تمہارے لئے شر ہو،اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے- (البقرہ-216)
یہی وجہ ہے کہ  اللہ سبحانہ و تعالی سورہ المائدہ میں فرماتا ہے جو اللہ کے  نازل کئے گئے احکام کے مطابق فیصلےنہیں کرتا وہ کافروں میں سے ہےجس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کے لئے یہ قطعا ًجائز نہیں کہ وہ انسانوں کے بنائے ہوئے کسی کورٹ یا کسی کتاب کو اللہ کی شریعت پر نظر ثانی کرنے کا اختیار دیں اور اسے قبول کریں کیونکہ انسانوں کے بنائے ہوئے تمام تر قانون  غلط اور  جھوٹے ہیں  اور  بنی نوع انسان کے لئے  صحیح قانون صرف اللہ  کی نازل کردہ شریعت ہے۔
مسائل کے حقیقی  حل دینے کی بجائے اسلام پر حملہ
حکومت ہند اور  سپریم کورٹ  ہندوستانی سماج میں موجود حقیقی مسائل سے نمٹنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں- اورحل نکالنے کے بجائے  انہوں نے اسلام کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کا انتخاب کیا ہے جبکہ وہ ان مسائل کو یکسر نظر انداز کرجاتے ہیں جو مغربی طرز زندگی  اپنانے کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔
مغربی معاشرے میں انسانی  زندگی کی ترقی کی بنیاد  انفرادی آزادی پر رکھی گئی ہےانفرادی آزادی سے مراد یہ ہے کہ  ہر شخص  کو اپنی زندگی کے تعلق سے مکمل آزادی ہے کہ وہ جیسے چاہے زندگی گزارے-    بل بورڈز، فلم، موسیقی، اشتہارات غرض  ہر جگہ فحاشی اور جنسی خواہشات کو فروغ دیا جاتا ہےجبکہ اس  چیز کی جگہ بیڈروم اورنجی زندگی ہے لیکن اسے پورے معاشرے میں ڈھٹائی سے پھیلا یا   جاتاہے۔
مغرب  کا معاشرہ  خواتین کو  جنسی شئے کے طور پر دیکھتا ہے۔ان کی نظرمیں  خواتین کی قدروقیمت صرف ان کے حسن و خوبصورتی کی وجہ سے ہے چنانچہ عورتوں پر یہ خبط اورمسلسل پریشرقائم رہتا ہے کہ وہ کیسی نظر آتی ہیں اور مردوں کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟یہ ذہنی بیماری  صرف مغرب تک  ہی محدود نہیں ہے   بلکہ اس کو بڑے پیمانے پر ان  ممالک میں  پھیلایا  جاتا ہے جو لبرل مغرب کی برابری کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں مثلاً  ہندوستان۔
سیکولر لبرل ڈیموکریٹک نظام سے منظور شدہ  فحاشی،ایڈورٹائزنگ اور دیگر تفریحی ذرائع کے ساتھ ساتھ بالی وڈ کلچر میں عورت کی حیثیت صرف مردوں کی خواہشات پورا کرنے کے سامان کی حد تک ہے- ایک ایسی سوسائٹی جس میں جنسی بے راہ روی عام  ہو ،وہ افراد کو جسمانی خواہشات پورا کرنے پر ابھارتی ہے،  ناجائزتعلقات کو فروغ دیتی ہے فسق و فجور کو پروان چڑھاتی ہے اور مرد و عورت کے تعلقات کو  سستی شئےبناکر بدترین سطح پر لے آتی ہےیہ صورت حال مردوں کے ذہن میں عورتوں  کی عزت اور عصمت  کے پامال ہونے کی کراہیت کوختم کرکے انہیں عورتوں کے تعلق سےبے حس بنا دیتی ہے۔
  اب ذرا ہم غور کریں کہ  ہندوستانی معاشرہ کس  رخ  پہ جا      رہا ہے۔  2015 میں، ہندوستان انٹرنیٹ پر  فحاشی  دیکھنے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پرتھاجو2014 کے رینک کے مقابلےبدتر تھا جب ہندوستان چوتھے  نمبر پر تھامیسور کے ایک  ا ین جی او، ریسکیو کے مطابق ،جس کا سربراہ  ابھیشیک کلفرڈ ہے،  ہندوستان میں  انڈر گریجویٹ کورسز کے ، 66 فی  صد لڑکے  9 سال کی عمر میں ہی  7 گھنٹے فی ہفتہ  کی اوسط کے ساتھ جنسی فحش  مواد دیکھنا شروع کر دیتے ہیں- اس سروے  کے مطابق تقریبا  30ً فیصد  لڑکے  19عصمت دری فی ہفتہ کی اوسط سے، پرتشدد جنسی مواد  دیکھتے ہیں- ہر سال تقریبا1.7لاکھ نئے     طالب علم فحش جنسی مواددیکھنا شروع کرتے ہیں اور جب تک وہ ڈگری کورس میں داخل ہوں تب تک وہ 4900  ٰ عصمت دری کے معاملے دیکھ چکے ہوتے ہیں- ان میں سے  سروے میں شامل 84 فیصد نے کہا کہ  فحش جنسی مواد  دیکھنا ایک لت ہے جو وقت کے ساتھ بد سے بدتر ہوتی جاتی ہے- 83 فی صد کا کہنا ہے کہ فحش مواد  دیکھنا جنسی فعل کی طرف راغب کرتا ہے اور   74 فیصد نے  کہا کہ یہ طوائفوں کے پاس جانے کابڑھاوا دےدیتا ہے۔ 
متعدد سروے اور  تحقیقات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ  زوجین کے بیچ طلاق کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک دہائی قبل ہندوستان میں طلاق کا واقعہ ایک ہزار میں ایک پیش آتا تھا۔ مگر 2015 میں یہ تعداد تیرہ گنا بڑھ گئی ہے، اور اب ہر 1000میں 13 طلاق کے معاملات پیش آتے ہیں۔
ہندوستان کے معاشی دارالحکومت   ممبئی میں 2014 میں 11667 طلاق کے معاملات درج ہوئے تھےجب کہ وہیں 2010  میں یہ صرف 5245  تھے۔اسی طرح لکھنؤ میں 2014 میں 2000 جوڑوں نے طلاق کے معاملات  درج کرائے  بمقابلہ2009 کے، جب کہ یہ صرف 300 تھے۔ تقریباًسارے بڑے شہروں میں کم وبیش  یہی رجحانات ہیں۔ طلاق کے بے لگام   بڑھتے  واقعات کی وجہ سے  صرف بنگلور میں  تین اضافی فیملی کورٹ کھولے گئےہیں۔ یہ ہیں اس آزادی کے ثمرات جس پر ہمیں تعجب نہیں ہونا چاہئے   بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ  ناگزیر  حالات  پیش آ نے ہی ہیں کیوں کہ انسان کا محدود ذہن  کبھی بھی انسانی زندگی اور اس کی ضروریات کی باریکیوں کا حل پیش نہیں کر سکتا۔
اس لئے جو لوگ اسلام کی تنقید کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ   اپنی آنکھیں کھولیں اور  اپنی طرز زندگی سے پیدا شدہ مسائل پر بھی ایک نظر ڈالیں۔ اسلام کو ہدف بنانے کے بجائے ان کواپنے سماج میں پھیلے ہوئے سنجیدہ  مسائل کی طرف اپنا رخ موڑنا چاہئے۔ اس سماج کے لئے انہیں حل تلاش کرنے کی زیادہ فکر ہونی چاہئے جو:
-  اپنا اخلاقی کردار بھول گیا ہے۔
-  فلموں اور اشتہارات کے ذریعہ عورت کی جنسی کشش کوبڑھاوادیتا  ہے۔
-  عورت مرد کے آزادانہ  مخلوط کلچر پر مبنی نئے سال اور ویلنٹائن ڈے جیسے تیوہاروں کو مناتا ہے۔
-  پورنوگرافی اور اسکے اداکاروں کی حوصلہ افزائی کرکے سماج کا اہم ا  و ر باعزت حصّہ بنا دیتا ہے۔
-  یہ  موجودہ نظام،  ذرائع ابلاغ،تفریحی صنعت(Entertainment Industry)آزادی اور  ضروریات و جبلّت کی غیرذمہ دارانہ لا محدود تسکین کی حوصلہ افزائی  کرتاہے۔
عورت کے متعلق اسلامی نظریہ
عورت کی حریت اور آزادی    کےتصورات میں اسلام یقین نہیں رکھتا اور جنسی برابری کے تعلق سے  مرد و عورت کے مابین رشتے کو  بحث کا موضوع نہیں بناتا   اور وہ انسان  کو یہ فیصلہ کرنے کی آزاد ی  بھی نہیں دیتا  کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق   زندگی  گزارے یا  اس  کو اس  بات کی چھوٹ نہیں دیتا کہ  وہ سماج کے لئے  خود قانون سازی کرے اور جاہلیت، تعصب، لالچ اور ایک دوسرے کی ضروریات کےمتعلق اپنی محدودسمجھ جو انہیں حاصل ہے، ان کی بنیاد پراپنے نظام کو خود تشکیل دے۔ نظام  مکمل طور سے خالق کی طرف سے آتا ہے جو کہ  زندگی کے سارے شعبوں پر محیط ہوتاہے: جیسےحکومت، معیشت، عدالت  ،تعلیم اور معاشرت کا نظام جو سماج میں  مرد و عورت اور ان کے باہمی تعلقات اور فرائض سے متعلق ہوتا ہے۔ اسی امر کی طرف قران کی ایک آیت کریمہ اشارہ کرتی ہے"کسی مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسولﷺکے فیصلے کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار  باقی نہیں رہتا۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔"(الاحزاب 36)
ایک مسلمان عورت اسلام کی حدود میں رہ کر ہی اصل تسکین محسوس کرتی ہے کیوں کہ اس کوتنہا اپنے خالق کی توقعات پر کھرا اترنا ہوتا ہے نہ کہ  شوہر ، خاندان ، قوم یا سماج کی مسلسل تغیر شدہ اور  غیر حقیقت پسندانہ توقعات و  امیدوں پر۔اسلام کے نزدیک  مرد وعورت فطرتاً  انسان ہونے کے ناطے یکساں صفات کے حامل ہیں اور ان پر نماز ، روزہ  اور حج کے فرائض یکساں طور سے عائد ہیں۔ حالانکہ  دونوں کے درمیان جن امور میں فطری اختلافات موجود ہیں ان امور میں ان کی فطرت کے مطابق ان پہ ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں-
اسلام مردوں پر عائد ذمےداریوں کو عورتوں کے لئےخاص ذمہ داریوں سے بہتر قرار نہیں دیتا ۔ مردوں  کے ان کےاوپر  عائد فرائض  و ذمہ داریوں کو بجا لانا ہے جس کے لئےاللہ کے حضور  وہ مسئول ہونگے اور  اسی طرح  عورتوں کو ان  پر عائد فرائض و ذمہ داریوں کو بجالانا ہے اور وہ ان کے لئے مسئول ہوں گی۔ دونوں کےفرائض ایک دوسرے کی تکمیل اور مدد کرتے ہیں جو   خاندان اور معاشرے کی  بہتر کارکردگی اور سکون کے لئے ناگزیر ہیں۔
اس لئے مساوات مرد و زن  کی بحث لایعنی  ہے-  نہ یہ  اسلامی معاشرتی نظام کا موضوع  ہے۔عورت کا  مرد کے برابر ہونا یا مرد کا عورت کے مساوی ہونا کوئی موضوع نہیں ہے جس کا اثر معاشرتی زندگی پر پڑے۔نہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کبھی اسلامی زندگی میں اٹھے گا۔ یہ تو بس ایک مغربی تہذیب کی لفّاظی اورپرفریب جملہ ہے۔اسلام کا اس طرح کی مغربی اصطلاح سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کیوں کہ ایک قوی فطری بنیاد پر مبنی اسلام کا اپنا  معاشرتی نظام ہے جو کہ  خاندانی اور سماجی یکجہتی کو یقینی  بناتا ہے۔
عورت کی عزت و آبرو  اور ان کی حفاظت  اسلام دو طریقوں سے قائم کرتاہے۔اوّلاً ،اسلام مطلق آزادی کے تصور کو خارج کرتا ہے اور اس کے بجائے  سماج میں تقوے کو  فروغ دیتا ہے جو کہ عورتوں کے متعلق نظریے ، ان سےسلوک و برتاؤکے بارے میں مردوں میں جوابدہی  کی ذہنیت  کو پروان چڑھاتا ہے ۔ یہ سماج میں جنسی بے راہ روی اور عورت کے جسم کے جنسی اور شہوانی استحصال  کو حرام قرار دیتا ہے جس سے کہ  رشتہ مرد  و زن بے قدر وقیمت نہ ہو اور عورت کی عزت کسی بھی طرح کم نہ ہو۔یہ ایک مکمل معاشرتی نظام کی تشکیل  کرتا ہےجو کہ مرد و عورت کے رشتوں کا نظم و ضبط قائم کرتا ہے بشمول  ضابطہ ملبوسات((dress code،  جنسی علیحدگی(gender segregation)، اورغیرا زدواجی طور پر تعلقات (extra marital affairs)  قائم کرنےکی حرمت۔ ان سب کا مقصدجنسی خواہشات کی تکمیل کو صرف   نکاح کے پاکیزہ ادارہ میں محدود کرکے سماج اور عورت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
دوسرا طریقہ جس سے اسلام عورت کی عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے وہ  اسلامی اقتدار یا خلافت ہے۔خلافت اسلام کا حکومتی نظام ہے جو اللہ کے تمام احکامات و فرائض کو نافذ کرتی ہے جس میں نماز، روزہ، زکوۃ، حج، اقتصادی قوانین، معاشرتی نظام اور اسلام کا سزاؤں کا نظام عقوبات شامل ہیں۔
جب سےمحمدﷺ نے اسلامی ریاست کا قیام مدینہ منوّرہ میں کیا تھا  تب سے 1300 سال تک یہی خلافت قائم رہی تھی۔ اب ہمارے علاقےتقریباً 90 سالوں سے  اس کی رحمت  سے خالی ہیں۔ اور اس کے ذریعہ سے  اسلام کے مکمل نفاذکی  عدم موجودگی میں  مسلمانوں نے مشرقی و مغربی تہذیبوں کو اپنی زندگی کی بنیاد بنا لیا ہے اور مسلمان عورتوں کے خلاف بڑھتی نا انصافی کی  یہی واحد وجہ ہے۔ اس لیے یہ ہمارے اذہان میں بالکل واضح ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کے مسائل کی وجہ اسلامی قوانین نہیں بلکہ  زمانہ میں ان کا مکمل طور سے عدم اطلاق ہے۔
ہمارا ردعمل  کیا ہونا چاہئے؟
1.اسلامی قوانین میں مداخلت پر ہندوستانی مسلمانوں کو آواز اٹھانی چاہئے جو وہ پہلے سے  کر  رہے ہیں  ساتھ ہی ہمیں  ہندوستانی معاشرے کے اصل مسائل کا پردہ فاش کرنا چاہئے جو کہ مغربی طرز زندگی کو اپنانےسے پیدا ہوئے ہیں- یہ وہ طرز زندگی ہے جس کو  ہندوستانی حکومت نے گلے سے لگایا ہے اور اب وہ مسلمانوں پر بھی اس کوتھوپ کرنافذ کر دینا چاہتی ہے۔
2. حریّت و آزادی کے باطل تصورات کی وجہ سے پیدا ہوئے مسائل کے متعلق مسلمانوں  کو  بے باکی سے بیان کرنا چاہئے۔
3. مسلمانوں کا یہ نقطہ نظر  پختہ ہونا چاہئے کہ اسلامی قوانین اللہ کے عطا کردہ ہیں جو کہ پوری  انسانیت کا خالق ہے، قانون دینے والا شارع ہے اور کوئی بھی دنیاوی عدالت اس خالق کے بنائے ہوئے قوانین   پر نظرثانی نہیں کر سکتی نہ ہی اسے  بدل سکتی  ہیں۔
4.مسلمانوں کو اس بات کا احساس و ادراک ہونا چاہیے کہ  دورجدید  کےجملہ تمام مسائل کا اصل حل اسلامی نظام کے مکمل نفاذمیں ہی ہے۔

No comments: