Friday, December 02, 2016

کرنسی پر پا بندی- اصل وجوہات اور اسلامی نقطہ نظر

8نومبر 2016کو راتوں رات ہندوستانی حکومت نے  500 اور 1000 رپئے کے نوٹ بند کرنے  کا اعلان کر دیا۔ لوگوں کو اطلاع دی گئی کہ  وہ یہ نوٹ  پبلک اور پرائوئٹ  بینکوں اور پوسٹ آفس سے  بدلوا سکتے ہیں اور کوئ بھی شخص 2,50,000 روپئےتک کی رقم بغیر کسی ٹیکس ادا  کئے اپنے کھاتوں میں  جمع کرا سکتاہے۔ اس عجلت بھرے  فیصلے نے  لوگوں میں  بدہواسی ، بے چینی  اور الجھن پیدا کر دی ہے اور کئ سوالات کھڑے کر دئے ہیں جن کے جواب ابھی تک حکومت سے نہیں ملے۔ اس مسئلے کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ہندوستان کی معیشت کا مطالعہ ضروری ہے۔

اوّلاً ، گزشتہ کچھ سالوں سے  ہندوستان کے پبلک سیکٹر بینکوں  نے  2.5 لاکھ کروڑ (37 بلین ڈالر) کا نقصان اٹھایا ہے۔یہ نقصان مبینہ طور پر   قرض داروں کے قرض نہ ادا کرنے کی وجہ سے ہو ا ہے۔ پچھلے  دو سالوں میں  صرف اسٹیٹ بینک آف انڈیا  نےان عدم ادائیگی والے قرضوں کی پاداش میں 75000  کروڑ روپئے(11بلین ڈالر) کا نقصان اٹھایا ہے(جن کے ادا ہونے کی بینک کو کوئ امید نہیں ہے)۔
پبلک سیکٹر بینکوں کی ناداری کی وجہ سے انہوں نے  ملک میں کاروباروں کو قرض دینا بند کر دیا ہے۔بہت سارے تجار اب قرضوں کے لیے  بیرونی سرمایہ کاروں اور بینکوں کی طرف رجوع  کر رہے ہیں۔ ماہ جون کے شروعات میں ،  موڈی انویسٹرسروسیز(Moody’s Investor Services (نے کہا  تھا کہ  پبلک سیکٹر یونٹ بینکوں میں ہندوستانی حکومت کو  2020 تک 1.2 لاکھ کروڑ  روپئے  سرایت کرنے ہوں گے تاکہ ان کی بیلینس شیٹ( (balance sheet کو  تقویت مل سکے اور ان کے نقصان کی بھرپائ ہو سکے۔اسی بات کو ہندوستان کے وزیر مالیات نے اپنی بجٹ تقریر میں  دہرایا تھا۔  انہوں نے بیان دیا  کہ حکومت ایک بہتری کی منصوبہ بندی(revamp plan)کا  اعلان  کر چکی ہے جس کا نام 'اندردھنش' ہے تاکہ چار سال میں سرکاری بینکوں میں 70,000کروڑروپئے واپس لائے جا سکیں اور 1.1 لاکھ کروڑروپئے   بینکوں کو مارکٹ سے کمانے ہوں گے   تاکہ سرمایہ کی ضروریات کو عالمی  رسک نارم ( (Global Risk Norms بیسل III (Basel III)کے مطابق پورا کیا جا سکے۔

دوئم، ہندوستانی معیشت کا ایک  بڑا حصہ نقد ی پر منحصر ہے۔پرائس واٹر ہاوس کوپرس(Price Water House Coopers)  کی 2015 کی ایک  رپورٹ کے مطابق ، کل صارف لین دین کے 68فی صد معاملات نقدی کے ذریعہ ہوتے ہیں اور سبھی بڑے لین دین  کے معاملات 98فی صد نقدی رقم سے ہوتےہیں۔اگر ہم اس کا  امریکہ اور انگلینڈ سے موازنہ کریں تو یہ وہاں بترتیب 55فی صد اور 48فی صد ہے۔ نتیجتاً ہندوستان میں ایک  پوشیدہ معیشت پنپی ہے(جس پر کہ کوئ نہ ٹیکس لگتا ہے، نہ اس  کی نگرانی ہوتی ہےاور نہ ہی اس کو  جی ڈی پی میں شامل کیا جاتاہے)۔ میکینسی اینڈ کمپنی) McKinsey & Company)کے روائتی تخمینے کے مطابق  یہ معیشت ہندوستان کی جی ڈی پی کا 26فی صد ہےاور ہندوستانی معیشت کا ایک چوتھائ ہے۔نیشنل انسٹیچوٹ آف پبلک فینینس  اینڈ پالیسی (National Institute of Public Finance and Policy)جو کہ وزارت مالیات  کے زیر دست ایک ادارہ ہے جو پبلک معیشت اور پالیسیز  کی رسرچ کے لئے کام کرتا ہے- اس ادارے کی مئ 2016 کی ایک رپورٹ کے مطابق نقدی پر منحصر  کالی معیشت ملک کی  جی ڈی پی کا 75فی صد ہے۔

سوم، چونکہ اس پوشیدہ معیشت کی لین دین بینکنگ نظام کے دائرے  کے باہر ہوتی ہے اس لئے حکومت اس کی نگرانی کرنے سے قاصر ہے اور  اس لئےوہ ایسے معاملات میں شامل سرمائے  اور  حاصل شدہ نفع پر  کوئ ٹیکس وصول  نہیں کر پاتی۔ سرمایہ دار حکومتوں اور اداروں کا  ماننا ہے کہ  یہ اندیکھی  نقدی  کی سرائت غیر رسمی یا پوشیدہ معیشت کو پھلنے پھولنے اور تسلط حاصل کرنے کے مواقعے فراہم  کرتی ہے۔
چہارم،   رشوت خور ممالک کی فہرست میں ایک بڑے رشوت خور ملک کے طور پر ہندوستان کا نام ہونا  عالمی کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے  اڑچن  بنا ہوا ہے۔ حالانکہ  مودی حکومت کے گزشتہ دو سالوں میں کوئ اعلیٰ سطح پر رشوت خوری اور گھوٹالا نہیں ہوا لیکن نچلی سطح پر روزانہ ہونے والی رشوت خوری  میں بے لگام اضافہ ہوا ہے جس نے غیر محفوظ  شہریوں کو بہت  نقصان  پہنچایا ہے۔ کرپشن پرسیپشن انڈیکس(Corruption Perception Index) ایک ممتاز نگراں(watchdog) تنظیم  ہے جو کہ ممالک کو پبلک سیکٹر رشوت خوری کے  ماہرانہ ادراک کی بنیاد پر اسکور اور رینک دیتی ہے  وہ ہندوستان کو رشوت خوری میں 38 نمبر پر رکھتی ہے جو کہ اس کو  سروے کیے گئے 168 ممالک کی لسٹ  میں  76ویں پوزیشن پر لا کھڑا کرتاہے۔ موجودہ  حکومت کو اس کی وجہ سے  بیرونی کاروباریوں کے ہندوستان میں سرمایہ لگانے کے توقعات کو زک پہنچا ہے۔

اصل وجوہات جن کی وجہ سے کرنسی بند کرنا پڑی۔

 ۱۔ مودی حکومت کو اس بات کا احساس تھا کہ بینکوں میں رقم کی سرائت کرنے کے لیے مقداری نرمی(پیسوں کو اور چھاپنےquantitative easing-) سے پہلے سے ہی انفلیشن زدہ معیشت میں    اور مہنگائ بڑھے گی۔اس کے بجائے حکومت نے بینکوں میں  ضروری  سیّالی(liquidity) کو لانے  کے لیے اس نوٹ بندی کے طریقہ کار کو چنا۔ اور حال میں ہی آئے اس فیصلے کا مطلوبہ اثر دکھائ دیا۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جا  سکتا ہے کہ  اس اعلان کے  دو دن بعد 12 نومبر  کو وزیر مالیات فخریہ طور پر انکشاف کرتے ہیں کہ"پبلک اور پرائویٹ بینکوں  میں ہفتہ کی شام تک تقریباً   2 لاکھ کروڑ روپئےجمع ہو چکے ہیں۔" خبروں سے  پتہ چلتا ہے کہ اکیلے ایس بی آئ(SBI) میں اس اعلان کے بعد صرف ایک دن میں39,677کروڑ روپئے جمع ہوئے  جب کہ عموماً  اتنی رقم ایک مہینے میں جمع ہوتی ہے۔
۲۔ ملک کی زرعی اور کموڈٹی مارکیٹ کو ملٹی نیشنل کمپنیوںمثلا امریکہ کی وال ماڑٹ کے لئے کھولنے کی کوشش میں مودی حکومت کومنڈیوں کی ٹریڈ یونینوں اور دیگر ہول سیل مراکز سے زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے جو کسانوں سے خریداری کرنے اور چھوٹے تاجروں کو بیچنے کے لئے نقدی کا استعمال کرتے ہیں-کرنسی نوٹوں کو بند کرنے سے حکومت نے اس بات کو یقینی  بنا لیا ہے کہ نقدی کی  تنگی کا شکار ہوئے ٹریڈ یونین حکومت پرکم دباؤ ڈالیں اور زرعی اور کموڈٹی مارکیٹ کو  بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے کھولا جا سکے۔
۳۔ ہندوستانی حکومت غیر معقول طریقے سے اس  کو سیاہ معیشت  کے خلاف ایک مہم کے  طور پر موسوم کرتی ہے۔اس سے زیادہ حق کے خلاف کوئ بات ہو  ہی نہیں سکتی۔ ہندوستانی حکومت یہ توقع رکھتی ہے کہ کل  گردش  شدہ  17.11لاکھ کروڑ  روپئے  میں سے تقریباً 3 لاکھ کروڑ (45 بلین ڈالر) روپئے نئے نوٹوں سے نہیں بدلے جا سکیں گے(آر بی آئ کے 28 اکتوبر 2016 کے رکارڈ کے مطابق)۔ اس سے حکومت یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ  حکومت کےزیادہ ٹیکس اور جرمانا  عائد کرنے کے ڈر سے وہ لوگ اپنا پیسہ بینکوں میں جمع نہیں کریں گے جن کے پاس سیاہ نقدی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق  2016میں  ہندوستان کی جی ڈی پی  2073.54 بلین ڈالر تھی جس کا یہ مطلب ہے کہ  پوشیدہ معیشت کا حصّہ   523 بلین ڈالر بنے گا کیوں کہ ہندوستان کی پوشیدہ معیشت اس کی کل جی ڈی پی کا 26فی صد ہے۔ اب اگر ہم نقدی کے 3لاکھ کروڑ (45 بلین ڈالر)  سیاہ  رقم کے پیسے  کو اصل میں موجود 523 بلین ڈالر کی سیاہ رقم  سے موازنہ کریں تو جو  رقم   اس مہم  سے برآمد ہوگی وہ کل رقم کی  صرف 8 فی صد ہوگی۔کیوں کہ کئ سالوں میں اس کو  بینکوں میں جائز طور سے جمع کرایا جا چکا ہے، رئل اسٹیٹ (real estate)میں اس   کا اصراف ہو چکا ہے اور ایک بڑا حصّہ محفوظ طریقے سے باہر بینکوں میں جمع کرایا جا چکا ہے۔
اس لئے اصل میں نوٹ بندی کے اس فیصلے کا شاز و نادر ہی کوئ اثر گزشتہ کئ سالوں سے  پوشیدہ معیشت  سے پیسہ کمانے یا سیاہ پیسے پر  پڑنے والا ہے۔
۴۔ یہ ایک کھلا  راز  ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے پاس بے انتہا نقدی موجود رہتی ہے، جو کہ سینکڑوں کروڑوں میں ہوتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے زیادہ تر انتخابی مہمات کے اخراجات اسی غیر سرکاری رقم سے پورے ہوتے ہیں۔ پچھلی ایک دہائ کا ڈاٹا اس طرف  اشارہ کرتا ہے کہ  سیاسی پارٹیوں کو جانے والا 75 فی صد  پیسہ  کسی رکارڈ کے بغیر  ہوتاہے۔2016 کے صرف بہار  انتخابات  میں   انتخابی ملازمین نے 80 کروڑ روپئے  ضبط کئے تھے۔
نوٹ بندی کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ  ساری غیر محسوب نقدی  جس کا استعمال سیاسی پارٹیاں ووٹوں کو خریدنے میں کرتی ہیں وہ  محض  کاغذ کے ٹکڑوں میں تبدیل ہو جائے گی۔
اس طرح سے مودی نے آئندہ مہینوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات  کے لئے تمام بڑی  مخالف سیاسی پارٹیوں کا گلا گھوٹ دیا ہے۔ اب  جن پارٹیوں اور امیدواروں کے پاس  اپنے انتخابی مہمات کے اخراجات کو چلانے کے لئے اس طرح کا غیر محسوب پیسہ ہے ان کو اب  اس  کو ٹھکانے لگانے اور نئے  مالی وسائل کو اخذکرنے کے کوئ نئے طریقے سوچنے ہوں گے۔
اسلامی نقطہ نظر
۱۔ سرمایہ داری  نظام  اور ان کے بینک  سودی لین دین  سے چلتے ہیں جوکہ بینکوں کی ناکامی کی اصل وجہ ہے اور 2007 سے عالمی   معاشی بحران   کی وجہ رہا ہے۔
اللہ سبحان تعلیٰ  قران مجید میں فرماتا ہے:"وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا"(اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔) (البقرہ 275)
اسلام  سود پر مبنی سارے معاہدوں کو ختم کرتا ہے اور اس کی جگہ نفع و نقصان پر مبنی معاہدوں کو  رائج کرتاہے۔ سود کی عدم موجودگی لوگوں کو بینکوں میں پیسہ جمع  کرنے سے باز رکھتی ہے۔پیسے کو بینک  میں جمع  کرکے  اس پر ہر سال 2.5 فی صد  ذکوٰۃ  دینے کی بہ نسبت لوگوں کے میلانات رقم کو بازار اور کاروبار میں لگانے پر ہو جاتے ہیں ۔ اخراجات اور رقم کو کاروبار میں لگانے سے معاشی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہےاور یہ کسی بھی معیشت کو بڑھاتی ہے  اور بہتر روزگار  اوربہتر معیار زندگی کو یقینی بناتی ہے۔

۲۔ آج کی کرنسی کاغذی ہے جس کی اپنی کوئ   قیمت  نہیں ہے نہ ہی اس کی پشت پر کوئ حقیقی اثاثہ ہے بس یہ سرمایہ داروں کے  بٹھائے ہوئے جھوٹے اعتماد پر  ٹکی ہوئ ہے۔ عالمی  طور پر ہمیشہ  بڑھتی مہنگائ کی  یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔اسلام سونےاورچاندی کوکرنسی کی بنیادبناکراس مسئلے کا حل دیتاہے۔سونے اور چاندی کے متعلق قران و سنّت میں احکام و ضوابط طے کئے ہوئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ٹھوس اشیا ء کو اسلامی کرنسی کی بنیاد قرار دیا ہے۔یعنی درہم اور دینار ، اس طرح  ایک ایسی کرنسی ہیں جس کی حقیقی ،  فطری قدر ہو اور جو اپنی قیمت کو برقرار  رکھے۔ایک ایسی کرنسی جونہ صرف  اپنی بنیاد سے جڑی ہو بلکہ اس سے کبھی بھی تبدیل(exchange)  کی جاسکے۔ اس لئے خلافت کے نظام میں کوئ بھی شخص بیت المال جا کر اپنے  کاغذکے نوٹ کو سونے اور چاندی  سے تبدیل بھی  کر ا سکتا ہے۔سونے اور چاندی  کےمستحکم  ہونے  کی وجہ سے  افراط زر(inflation) ختم ہو جاتی ہے۔
۳۔ اسلام جمع  خوری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کی مال صرف کچھ لوگوں میں ہی نہ گردش کرتا رہے۔ اللہ تعلیٰ مال کے متعلق فرماتاہے"كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ"] الحشر:7[تاکہ   تمہارے دولت مندوں  کے ہاتھ میں ہی مال گردش کرتا نہ  رہ جائے۔
 مال و دولت کی گردش کو  تمام شہریوں میں قائم کرنا   اسلام کی نظر میں ایک فریضہ  ہے اور مال کا کچھ لوگوں میں کچھ دوسرے  لوگوں کو چھوڑ کرمرتکز ہونے کو  اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ اس طرح اشیاء کی زخیرہ اندوزی / اجارہ داری حرام ہے۔ بازار کی اجارہ داری  کو اسلام ظالمانہ اور استبدادی  قرار دیتا ہے۔ زخیرہ اندوزوں کو  ڈھیل نہیں دی جاتی ہے   اور نہ ہی اجارہ داری کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ کچھ خاص لوگ  ہی قیمت   کو طے  نہ کریں۔ اس کی بنیاد ایک حدیث پر ہے ،اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں:"جس کسی نے اجارہ داری کی اس نے خطا کی۔"ْ]مسلم[
۴۔ حکومت کی جھوٹی یقین دہانی کے باوجود  کہ نوٹ بندی ایک شفّاف  معیشت کی  تخلیق کرکے عام لوگوں کی بہتری  کرے گی جب کہ اس معاشی  مہم جوئ سے صرف ملک کے بیمار   بینک ، حکومت کا وقار اور اس کی مستقبل سیاسی کامیابی ہی مستفید  ہوگی۔
سرمایہ دار  معاشی نظام  کا مزاج ہی یہی ہے  کہ وہ صرف سرمایہ  کاروں اورحکومتی طبقے سے جڑے  لوگوں کے فوائد کے لیے کام کرتا ہے اور اس سے  تمام عالم میں فساد برپا ہے۔ ہندوستان کا یہ معاشی بحران   صرف اکیلا نہیں ہے۔ حقیقتاً ایسے سینکڑوں  بحران ہندوستان اور دوسرے  ممالک میں آتے رہے ہیں۔
اس سیکولر مغربی سرمایہ داری نظام کی مثال مکڑی کے جالے کی مانند ہے جو کہ  پیچیدہ ہونے کے باوجود بھی اتنا کمزور ہوتا ہے۔
اللہ تعلیٰ قران میں فرماتا ہے

"مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوتِ ۖ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔
" جن لوگوں نے اللہ تعلیٰ کے سوا اور کارساز مقرر کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی سی ہےکہ وہ بھی ایک گھر بنا لیتی ہے، حالاں کہ تمام گھروں سے زیادہ بودا گھر مکڑی کا گھر ہی ہے۔ کاش وہ جان لیتے(العنکبوت41)

نوٹ بندی  سے پیدہ شدہ بحران اور تمام دوسرے معاشی مسائل جوکہ ہندوستان اور عالمی طور پر  اس سرمایہ دار معاشی نظام کی تخلیق کردہ   ہیں ان کا  واحد حل صرف اسلام کا نفاذ ہے جس کا کہ ایک مکمّل  اور تفصیلی  معاشی نظام ہے  جو کہ مغربی سرمایہ داری نظام کی پیدہ کردہ مسائل کو بخوبی حل کر سکتا ہے اور  ایک  عادلانہ ، مستحکم اور خوشحال معیشت کو قائم کرتا ہے۔
                                               











No comments: